30 اگست 2015 - 11:51
داعش میں زندگی کی ضمانت ایک یا دو مہینوں کی

داعش میں کسی مرد کے دہشتگرد جنگجو بننے کے بعد اس کی زندگی کی ضمانت ایک یا دو مہینے کی ہوتی ہے۔ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ اعلانات کے برعکس، شام یا عراق جا کر داعش کے نظامِ حکومت میں رہنے کی خواہش میں ہجرت کرنے والے برطانوی خواتیں کی تعداد دوسال قبل ہی بڑھنی شروع ہوگئی تھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہال کے حکام نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ اعلانات کے برعکس، شام یا عراق جا کر داعش کے نظامِ حکومت میں رہنے کی خواہش میں ہجرت کرنے والے برطانوی شہریوں کی تعداد دوسال قبل ہی بڑھنی شروع ہوگئی تھی۔ لیکن اس انتہا پسند تنظیم میں شامل ہونے کے لئے ہجرت کرنے والوں میں مردوں کی نسبت خواتین کی شرح حیرت انگیز حد تک بڑھ چکی ہے۔ آخر اس کے پیچھے کیا کہانی ہے اور وہ حکمت عملی دراصل ہے کیا جو خواتین کو داعش کی صفوں میں شمولیت کی طرف مائل کرتی ہے؟

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ (یا داعش) کہلوانے والی تنظیم خواتین کے بارے میں دہرا معیار رکھتی ہے۔ ایک طرف تو وہ خواتین کو انتہائی کمتر انسان کا درجہ دیتے ہیں جنھیں وہ اپنے جنگجوؤں کو لڑائی کے بدلے انعام میں دینے والی کسی شے سے بڑھ کر نہیں سمجھتے۔ عراق کے شہر موصل میں جنسی غلاموں کے ایک بازار سے حاصل ہونے والی فوٹیج انتہائی چونکا دینے والی ہے جس میں داعش کے جنگجو پچھلے سال اغوا کی جانے والی یزدی لڑکیوں کے دام طے کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سی نو عمر بچیاں بھی شامل ہیں۔

کم از کم 2000 یزدی لڑکیاں اب بھی انکی قید میں موجود ہیں، گو کہ کچھ بھاگ نکلنے میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں بھاگنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ ہمیں بیچنے کے لئے بازار لے جاتے تھے جہاں جنگجوؤں کے مختلف گروہ ہمیں خریدنے آتے تھے۔ اور ان پر ہمارے رونے دھونے اور معافی کی درخواست کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘

لیکن دوسری طرف داعش ان خواتین کے لئے ایسے منصوبے وضع کرتی ہے جو ان کی نام نہاد خلافت میں کردار ادا کرنے کی خاطر اپنا وطن چھوڑ آئی ہیں۔ لندن کے کنگز کالج میں اسلامی علوم کی ماہر ڈاکٹر کیتھرین براؤن کہتی ہیں کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواتین ان کے گروہ میں شامل ہوں۔ یہ خواتین کو اپنی اس نئی مملکت میں ایک بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بات واقعی دلچسپ ہے کہ لوگ داعش کو موت کے گروہ کے طور پر جانتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ اپنا ایک اور رخ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایک نئی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور ان کی شدید خواہش ہے کہ خواتین ان کی خیالی سیاست کا حصہ بننے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوں۔

مصائب بھری زندگی

داعش نے اس سال فروری میں عربی زبان میں ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں ان کی نئی ریاست کے ضابطے 14 سو سال پہلے کی اسلامی خلافت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس دستاویز کے مطابق ان کی مخاطب بنیادی طور پر خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی عرب خواتین ہیں۔ اس میں کچھ ایسے حصے بھی شامل ہیں جو مغرب میں بہت سے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اس دستاویز کے مطابق نو سال کی بچی کی شادی قانوناً جائز ہے۔ زیادہ تر لڑکیوں کی شادی 16 یا 17 سال کی عمر میں کر دی جائے گی جب وہ زیادہ جوان اور فعال ہوتی ہیں۔

ایمن دین جو القاعدہ کے سابق رکن ہیں، اس جنگجوانہ ذہنیت پر ایک گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ خواتین کے متعلق داعش کا نقطۂ نظر القاعدہ اور طالبان سے بہت مختلف ہے۔ القاعدہ کے برعکس داعش ایک ایسا مستقل معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے جس کی جڑیں گہری ہوں۔ اپنی ریاست کی آبادی بڑھانے کے لیے وہ صرف یورپ اور امریکہ ہی سے نہیں، بلکہ وسطی ایشیا سمیت پوری اسلامی دنیا سے خاندانوں کو لے کر آ رہے ہیں۔

لوگوں کو نوکری دینے کے لیے مستقل مختلف زبانوں میں آن لائن پیغامات بھی دیے جا رہے ہیں جن میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مغرب میں اپنی محفوظ مگر تصادم زدہ زندگی کو چھوڑ کر داعش کی خلافت میں آ جائیں۔ زیادہ تر لوگوں نے ان پیغامات کو نظر انداز کیا ہے، مگر خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ان سے متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔


مثال کے طور پر مشرقی لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی خواتین ان جنگجوؤں سے شادی کی خواہش مند تھیں اور ان کے خیال میں وہ ان کو معاشرے میں ایک بہتر رتبہ دے سکتے تھے۔

ایمن دین کہتے ہیں کہ اس میں رومانس کا عنصر بھی شامل ہے، جس کا انجام عام طور پر دردناک ہوتا ہے۔ کسی مرد کے جنگجو بننے کے بعد اس کی زندگی کی ضمانت ایک یا دو مہینے کی ہوتی ہے۔ تواس عورت کا کیا ہوگا جس نے اس جنگجو سے شادی کی ہے؟ وہ مرجائے گا اور وہ عورت اپنی عدت پوری کرنے کے لیے چار مہینے دس دن کے سوگ میں چلی جائے گی۔ اور اگر وہ حاملہ ہے تو عدت اس سے بھی لمبی ہوگی۔ اس کے بعد وہ پھر کسی اور جنگجو سے شادی کرتی ہے اوروہ بھی مر جاتا ہے تو اس کو دوبارہ اس عمل سے گزرنا پڑے گا یعنی پھر اگلے چار مہینے کا سوگ۔ یہ خوشگوار نہیں بلکہ ایک تکلیف دہ زندگی ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار

لیکن طالبان اور القاعدہ کے برعکس، داعش نے مغرب میں اپنی بہت سی خواتین ملازمین کو سوشل میڈیا پر ایک نمایاں کردار ادا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ شاید ان میں سب سے مشہور گلاسگو سے بھاگی ہوئی 20 سالہ اقصیٰ محمود ہیں جو اپنے آپ کو ‘ام لید’ کہتی ہیں۔ وہ برطانیہ میں ان خواتین کو مشورے دینے کی وجہ سے مشہور ہیں جو برطانیہ میں اپنے خاندان کو کسی بھی چھوٹی یا بڑی وجہ سے چھوڑنا چاہتی ہیں۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے مارخ علی جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ‘داعش میں خواتین’ کے موضوع پر مقالہ لکھ رہے ہیں، یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کو سوشل میڈیا پر نمایاں مقام دینے کی حکمت عملی بہت سوچ سمجھ کر اختیار کی گئی ہے۔ کیونکہ خواتین انکے معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ وہ مختلف شعبوں جیسے صحت، تعلیم، حتیٰ کہ ٹیکس کی وصولی جیسے شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے وہ داعش کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ طالبان اور القاعدہ کے مقابلے میں داعش خواتین کو زیادہ فعال طریقے سے استعمال کرتی ہے۔ ٹوئٹر پر داعش کے متعلق روزانہ ہزاروں ٹوئیٹس ہوتی ہیں جن میں بظاہر زیادہ تر مغربی ممالک میں داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی خواتین کی جانب سے ہوتی ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ وہ خواتین جو ترکی کی سرحد کی دوسری جانب داعش کے زیر تسلط علاقے میں رہ رہی ہیں، وہ اپنے تفویض کردہ کردار سے جلد ہی مایوس ہو جاتی ہیں۔ غیر شادی شدی خواتین کو ایک گھر میں عام طور پر ان لوگوں کے ساتھ ہی رکھا جاتا ہے جو انہی کی زبان بولتے ہیں۔ وہاں ان کو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور عربی زبان سکھائی جاتی ہے۔ اس دوران ان کے لیے جلد سے جلد شوہر بھی تلاش کیا جاتا ہے۔

وہاں جا کر ان کا جنگ میں حصہ لینے اور فرنٹ لائن پر کھڑے ہوکر کلاشنکوف چلانے کا خواب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کچھ خواتین پر مشتمل ایک چوکس دستے ‘خانسا بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرتی ہیں، جس کا کام رقہ اور موصل کے شہروں میں گشت کرنا اور اسلامی قوانین کی سختی سے پابندی کروانا ہے۔

ڈاکٹر کیتھرین براؤن کہتی ہیں کہ یہ خواتین دوسری خواتین کو اسلامی لباس نہ پہننے پر پیٹنے اور کوڑے لگانے جیسی سزائیں دینے کے لیے مشہور ہیں۔ کیتھرین مزید کہتی ہیں کہ ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی عورتوں کے سینوں کو جانوروں کو قابو کرنے والے شکنجوں میں جکڑ دیتی ہیں۔

داعش کے مظالم اور چونکا دینے والے اعمال دنیا بھر میں ان کی ذلت و رسوائی کا سبب بن رہے ہیں، لیکن پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ان کی نام نہاد خلافت ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ جس کی ایک وجہ بعض عرب خصوصا یورپین ممالک کی پس پردہ حمایت ہے۔

القاعدہ کے سابق جنگجو ایمن دین سے جب پوچھا گیا کہ کیا اب داعش خواتین کو اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھتی ہے؟ تو اسکا جواب تھا۔ ’بالکل، اس کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ وہ ان کے معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ وہ مختلف شعبوں جیسے صحت، تعلیم، حتیٰ کہ ٹیکس کی وصولی جیسے شعبوں میں بھی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے وہ داعش کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں۔‘

خلاصہ یہ کہ داعش نے خواتین کو اپنی بقا کا ایک عنصر قرار دیا ہے۔ پہلے وہ خواتین کو صرف جہاد النکاح کے لئے استعمال کرتے تھے، اب انہوں نے خواتین کو دوسرے متعدد شعبوں میں کردار ادا کرنے کی بھی اجازت دے رکھی ہے۔

.......

/169